جناب عقیل صفین میں معاویہ کے ساتھ تھے؟

عقیل بن ابی طالبؓ کے موقف میں کوئی ایسی بات نہیں جو باعثِ عار ہو۔ جہاں تک یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ معاویہ کے پاس گئے تھے، تو اس بارے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد، اور امام حسنؑ و معاویہ (لعنہ اللہ) کے درمیان صلح کے بعد معاویہ کے پاس گئے۔ جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ وہ امیرالمؤمنینؑ کی حیات میں ہی معاویہ کے پاس گئے تھے۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ امیرالمؤمنینؑ کی زندگی میں معاویہ کے پاس گئے تھے، تو ایسی روایات بھی موجود ہیں جو بتاتی ہیں کہ عقیلؓ اپنے بھائی امیرالمؤمنینؑ کو خطوط لکھا کرتے تھے، جن میں وہ معاویہ یا اس کے ساتھیوں کے ارادوں اور ان کے اقدامات کی خبریں دیتے تھے۔ اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ عقیلؓ بیک وقت امیرالمؤمنینؑ کے لیے خبر رساں (عین) بھی تھے اور مددگار (عون) بھی۔
یہ بھی ملحوظ رہے کہ عقیلؓ نے متعدد مواقع پر معاویہ کو منہ توڑ جواب دیا اور اسے سخت ملامت کی۔ وہ معاویہ کی مجلس میں کھل کر یہ کہتے تھے:
“میں امیرالمؤمنینؑ کے لشکر سے گزرا تو وہ رسولِ خدا ﷺ کے لشکر کی مانند تھا، وہاں قرآن کی تلاوت یا عبادتِ الٰہی کے سوا کچھ سنائی نہ دیتا تھا—کوئی کھڑا نماز پڑھ رہا ہے، کوئی رکوع میں ہے۔ اور میں تمہارے لشکر سے گزرا تو وہاں مجھے سوائے طلقاء کے بیٹوں اور ان لوگوں کے، جنہوں نے یومِ عقبہ میں رسولِ خدا ﷺ کو خوف زدہ کیا تھا، کوئی نہ ملا۔”
عقیلؓ معاویہ سے پوچھتے: “یہ تمہارے دائیں جانب کون بیٹھا ہے؟”
معاویہ کہتا: “عمرو بن العاص۔”
عقیلؓ کہتے: “یہ وہ شخص ہے جس کے بارے میں قریش کے چھ افراد میں جھگڑا ہوا تھا اور ان سب پر اس کا قصاب (عاص) غالب آ گیا۔”
پھر پوچھتے: “اور تمہارے بائیں طرف کون ہے؟”
کہتا: “ابو موسیٰ اشعری۔”
عقیلؓ کہتے: “یہ تو ابنِ سراقہ ہے۔”
اس پر تمام لوگ غصے میں آ جاتے۔
معاویہ بات سنبھالنے کی کوشش کرتا اور کہتا: “میرے بارے میں کیا کہتے ہو؟”
عقیلؓ کہتے: “مجھے معاف رکھو۔”
لیکن جب معاویہ اصرار کرتا تو عقیلؓ کہتے: “کیا تم حمامہ کو جانتے ہو؟”
پھر مجلس سے نکل جاتے۔ بعد میں معاویہ نسب شناس کو بلا کر حمامہ کے بارے میں پوچھتا۔ وہ امان مانگتا، معاویہ امان دیتا، تو وہ کہتا: “وہ ابو سفیان کی ماں تھی اور وہ جھنڈے والی بدکار عورتوں میں سے تھی۔”
ایک مرتبہ معاویہ نے عقیلؓ کو بلایا اور طنز کرتے ہوئے کہا:
“اے اہلِ شام! یہ وہ شخص ہے جس کا چچا ابو لہب تھا، جس کے بارے میں قرآن میں آیا: تَبَّتْ یَدَا أَبِی لَهَبٍ۔”
اس پر عقیلؓ فوراً بولے:
“اے اہلِ شام! جس عورت کے بارے میں قرآن میں آیا: وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ، وہ معاویہ کی پھوپھی تھی۔”
معاویہ بار بار عقیلؓ سے امیرالمؤمنینؑ کو سبّ کرنے کا مطالبہ کرتا۔ عقیلؓ منبر پر چڑھ کر کہتے:
“معاویہ بن ابی سفیان نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں علی بن ابی طالب کو لعنت کروں، پس تم بھی لعنت کرو۔”
اور نیچے اتر آتے—نہ ایک لفظ زیادہ، نہ کم۔
معاویہ اعتراض کرتا کہ تم نے واضح نہیں کیا کہ لعنت کس پر ہے۔
پھر عقیلؓ صاف کہتے:
“علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے۔ علی کے ساتھ دین ہے اور تمہارے ساتھ، اے معاویہ! دنیا ہے۔”
معاویہ انہیں ایک لاکھ دینار دیتا اور کہتا:
“کیا علی تمہیں میری طرح عطا دے سکتا ہے؟”
عقیلؓ جواب دیتے:
“تم اس میں سے دیتے ہو جو تمہارا نہیں، اور علی اپنے مال میں سے دیتا ہے۔”
یعنی امیرالمؤمنینؑ معاویہ سے زیادہ کریم ہیں، کیونکہ امامؑ نے اپنے بھائی کی حاجت اور تنگی دیکھ کر فرمایا تھا:
“ٹھہرو، میں تمہیں اپنے ماہانہ وظیفے میں سے دوں گا۔”
اسی لیے عقیلؓ کے نزدیک علیؑ کے درہم، معاویہ کے عطیے سے زیادہ قیمتی تھے، کیونکہ معاویہ دوسروں کے مال میں سے دیتا تھا۔ پھر عقیلؓ وہ ایک لاکھ دینار معاویہ کے منہ پر پھینک دیتے ہیں اور باہر نکل جاتے ہیں۔
یہاں تک کہ خود معاویہ اعتراف کرتا ہے کہ عقیلؓ کی موجودگی نے ان کی مجالس کو خراب کر دیا ہے۔
پس جو شخص عقیلؓ کی خبروں کا تتبع کرے گا، وہ پائے گا کہ عقیلؓ اہلِ شام کے لیے نہیں بلکہ ان کے خلاف تھے۔ آلِ عقیل کا موقف امیرالمؤمنینؑ، امام حسنؑ اور سید الشہداء امام حسینؑ کے دفاع اور وفاداری میں بالکل واضح ہے، جس کے شواہد بہت سے مصادر میں موجود ہیں۔

رسولِ خدا ﷺ عقیل سے محبت فرمایا کرتے تھے۔ شیخ صدوقؒ نے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم سے حسین بن احمد بن ادریسؒ نے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم سے میرے والد نے، انہوں نے جعفر بن محمد بن مالک سے، انہوں نے کہا: مجھ سے محمد بن الحسین بن زید نے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم سے ابو احمد محمد بن زیاد نے، انہوں نے کہا: ہم سے زیاد بن منذر نے، سعید بن جبیر سے، ابنِ عباس سے روایت کی کہ امیرالمؤمنین علیؑ نے فرمایا:
میں نے رسولِ خدا ﷺ سے عرض کیا:
یا رسولَ اللہ! آپ عقیل سے محبت رکھتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
ہاں، اللہ کی قسم! میں اس سے دو محبتوں کے ساتھ محبت کرتا ہوں: ایک اس کی اپنی محبت، اور دوسری اس محبت کی وجہ سے جو ابو طالب اس سے رکھتے تھے۔ اور اس کی اولاد میں سے ایک ایسا بیٹا قتل کیا جائے گا جو تمہاری اولاد کی محبت میں شہید ہوگا، پس اس پر اہلِ ایمان کی آنکھیں اشک بار ہوں گی اور مقرب فرشتے اس پر درود بھیجیں گے۔
پھر رسولِ خدا ﷺ رو پڑے، یہاں تک کہ آنسو آپ ﷺ کے سینے پر بہہ نکلے، پھر فرمایا:
میں اللہ کی بارگاہ میں اپنی عترت پر ان مصائب کی شکایت کرتا ہوں جو میرے بعد ان پر آئیں گے۔
اور معاصر عالم شیخ محمد ہادی الامینی نے کہا ہے:
عقیل ان افراد میں سے تھے جو غزوۂ حنین کے دن رسولِ خدا ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے، اور ان کی وثاقت اور نیک سیرتی پر سب کا اتفاق ہے۔

سوال یہ ہے کہ:
کیا اس معمم کی بات درست ہے؟
کیا امیر المؤمنینؑ کے بھائی حضرت عقیلؑ شیعہ نقطۂ نظر سے مذموم ہیں اور واقعی “خبیث و طالح” تھے جیسا کہ یہ خطیب کہتا ہے؟
اور اس معمم کے اس بیان کو ہم سید علی بروجردیؒ کے اس قول کے ساتھ کیسے جمع کریں جو انہوں نے طرائف المقال میں حضرت عقیل بن ابی طالبؑ کے ترجمہ میں لکھا ہے:
عقیل بن ابی طالبؑ، امیر المؤمنینؑ کے بھائی ہیں، عظیم المرتبت، ایسے ہیں کہ تعارف کے محتاج نہیں، بلکہ وہ اس سے کہیں بلند تر ہیں کہ قلم میں سمائے جا سکیں۔ وہ اپنے بھائی امیر المؤمنینؑ کے نزدیک جلیل القدر تھے۔ اور نبیؐ سے منقول ہے کہ جب امیر المؤمنینؑ سے پوچھا گیا: کیا آپ عقیل سے محبت کرتے ہیں؟ تو آپؑ نے فرمایا: ہاں، خدا کی قسم! میں عقیل سے دو محبتوں کی بنا پر محبت کرتا ہوں: ایک خود اس کی وجہ سے، اور دوسری اپنے والد ابوطالب کی محبت کی وجہ سے
جواب:
اس کے نام سے (اللہ کے) جن کے اسماء جلیل ہیں۔
حضرت عقیلؑ کے بارے میں اس قسم کی بات یا تو کوئی جاہل ہی کہہ سکتا ہے — اگر ہم اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھیں —
اور سید بروجردیؒ (اعلیٰ اللہ مقامہ) نے جو کچھ فرمایا ہے وہ بالکل درست اور حق ہے۔
سید صادق روحانی

بعد والوں (مخالفین) نے حضرت عقیلؑ سے بغض رکھا اور ان پر من گھڑت تہمتیں چسپاں کیں، یہاں تک کہ ان کی طرف حماقت کی نسبت دے دی۔ اور اس پر دلیل یہ قائم کی کہ انہوں نے امیر المؤمنینؑ کو چھوڑ کر معاویہ کا رخ کیا اور اس کی مجلس میں بیٹھے۔
لیکن بزرگ عالم شیخ عبد الجلیل رازیؒ نے اپنی کتاب النقض میں اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ:
حضرت عقیلؑ نے امیر المؤمنینؑ کو اس لیے نہیں چھوڑا کہ (نعوذ باللہ) وہ ان کے ساتھ رہنے سے اکتا گئے ہوں، بلکہ وہ معاویہ کے پاس اس لیے گئے تھے تاکہ اس پر حجت تمام کریں اور سرزمینِ شام میں مرتضیٰ علیؑ کے فضائل اور مناقب کو آشکار کریں۔
اس صفحہ کو عربی جاننے والے افراد خود مطالعہ کرے 😅
بہت کچھ مل سکتا ہے

سید علی بروجردی کا کلام
“ان کے بھائی (امیر المؤمنینؑ) کے نزدیک وہ عظیم المرتبت تھے۔” وہ توصیف کے محتاج نہیں