شیعوں کے ہاں اللہ مجسم ہے؟ اللہ اپنے بندوں کے سروں پر ہاتھ رکھے گا؟
: جواب

اللہ اپنے بندوں کے سروں پر ہاتھ رکھے گا
اولا یہ روایت ضعیف علی المشور ہیں
علامہ مجلسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
اس قول میں: ‘اللہ نے اپنا ہاتھ رکھا’ — لفظ ‘ہاتھ’ کی ضمیر یا تو اللہ کی طرف لوٹتی ہے یا قائمؑ (امام قائم علیہ السلام) کی طرف۔ دونوں صورتوں میں یہ رحم و شفقت یا قدرت و تسلط کے معنی میں کنایہ ہے، اور دوسری صورت میں (یعنی قائمؑ کی طرف نسبت ہونے پر) حقیقی معنی کا احتمال بھی ہے۔”
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ فَمَنۡ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنۡکُثُ عَلٰی نَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیۡہُ اللّٰہَ فَسَیُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا﴿٪۱۰﴾
۱۰۔ بتحقیق جو لوگ آپ کی بیعت کر رہے ہیں وہ یقینا اللہ کی بیعت کر رہے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے، پس جو عہد شکنی کرتا ہے وہ اپنے ساتھ عہد شکنی کرتا ہے اور جو اس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ کے ساتھ کر رکھا ہے تو اللہ عنقریب اسے اجر عظیم دے گا۔
سورۃ فتح آیت نمبر 10
آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کو اللہ کے ہاتھ پر بیعت قرار دیا چونکہ یہ ہاتھ اللہ کے رسول کا ہاتھ ہے۔ قرآن میں متعدد مقامات پر عمل رسول کو عمل خدا قرار دیا:
وَ مَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی۔۔۔۔ (۸ انفال:۱۷)اور (اے رسول) جب آپ کنکریاں پھینک رہے تھے اس وقت آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے کنکریاں پھینکی تھیں۔
مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ۔۔۔۔ (۴ نساء: ۸۰)جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
اس بات کی پوری وضاحت کے لیے رسولؐ کے ہاتھ کو اللہ کا ہاتھ قرار دیا کہ بعد میں اگر کوئی اس بیعت کو توڑتا اور جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے تو اس نے اللہ سے بیعت کو توڑا ہے۔
یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ: مزید وضاحت فرمائی کہ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ یعنی وہ فی الواقع اللہ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے۔ یہاں ید رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ید اللہ فرمایا جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کی نشانی ہے اور ساتھ بیعت کی بھی عظمت بیان کرنا مقصود ہے کہ اس بیعت کا توڑنا کس قدر عظیم جرم ہو گا۔
تو امام کا ہاتھ بھی مراد لیا جا سکتا ہے
اس کی دلیل ملاحظہ فرمائیں
: ترجمہ
الرّسول (صلی الله علیه و آله)- حَجَّ رسول الله (صلی الله علیه و آله) مِنَ الْمَدِینَةِ وَ قَدْ بَلَّغَ جَمِیعَ الشَّرَائِعِ قَوْمَهُ غَیْرَ الْحَجِّ وَ الْوَلَایَة … فَلَمَّا بَلَغَ غَدِیرَ خُمٍّ قَبْلَ الْجُحْفَةِ بِثَلَاثَةِ أَمْیَالٍ أَتَاهُ جبرئیل لَی خَمْسِ سَاعَاتٍ مَضَتْ مِنَ النَّهَارِ بِالزَّجْرِ وَ الِانْتِهَارِ وَ الْعِصْمَةِ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ یا مُحَمَّدُ (صلی الله علیه و آله) إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ یُقْرِئُکَ السَّلَامَ وَ یَقُولُ لَکَ یا أَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ فِی عَلِی (علیه السلام) فقال (صلی الله علیه و آله) … مَنْ بَایَعَ فَإِنَّمَا یُبَایِعُ اللَّهَ یَدُ اللهِ فَوْقَ أَیْدِیهِمْ مَعَاشِرَ النَّاسِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَ بَایِعُوا علیا (علیه السلام) أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ (علیه السلام) وَ الْحَسَنَ (علیه السلام) وَ الْحُسَیْنَ (علیه السلام) وَ الْأَئِمَّةَ (علیهم السلام) کَلِمَةً طَیِّبَةً بَاقِیَةً یُهْلِکُ اللَّـهُ مَنْ غَدَرَ وَ یَرْحَمُ مَنْ وَفَی فَمَنْ نَکَثَ فَإِنَّما یَنْکُثُ الْآیَةَ.
[تفسير اهل البيت عليهم السلام ج١٤، ص٤٣٢ –
بحرالعرفان، ج١٥، ص٤٨]٣
: رسولِ خدا ﷺ نے مدینہ سے حج کیا، اس حال میں کہ آپ ﷺ اپنے قوم تک تمام شرعی احکام پہنچا چکے تھے، سوائے حج اور ولایت کے۔……………
پس جب آپ ﷺ غدیرِ خم پہنچے، جو جُحفہ سے تین میل پہلے ہے، تو دن کے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے کہ جبرئیلؑ آپ کے پاس آئے، سخت تاکید، ڈانٹ اور لوگوں سے حفاظت (عصمت) کے ساتھ، اور کہا:
اے محمد ﷺ! بے شک اللہ عزّوجل آپ کو سلام پہنچاتا ہے اور آپ سے فرماتا ہے:
“اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے، اسے علیؑ کے بارے میں پہنچا دیجیے۔”
تو رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
“جس نے بیعت کی، اس نے حقیقت میں اللہ سے بیعت کی؛ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔ اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور علیؑ امیرالمؤمنین سے، اور حسنؑ، حسینؑ اور ائمہؑ سے بیعت کرو، یہ ایک پاکیزہ اور باقی رہنے والا کلمہ ہے۔ اللہ عہد توڑنے والے کو ہلاک کرے گا اور وفا کرنے والے پر رحم فرمائے گا؛ پس جو عہد توڑتا ہے، وہ درحقیقت (خود اپنے خلاف) اللہ کی آیت ہی کو توڑتا ہے۔”
تمام