امیرالمؤمنینؑ نے حضرت فاطمہؑ کا دفاع کیوں نہیں کیا؟

جو ملعونہ اپنے بڑوں کے میدانِ جنگ سے بھاگ جانے کا دفاع آج تک نہ کر سکی، وہی لعنتی نسل اب امیرالمؤمنین علی علیہ السلام پر طعن کرنے نکل آئی ہے؟
پرنالہ ہو یا جناب فاطمہ پر حملے کرنے والوں کی گردنیں ذوالفقار کی ایک ہی وار کافی تھی لیکن حکم رسول اللہ کا تھا صبر کرنے کا یہ اہل سنت کتب سے بھی ثابت ہے
“اے علی!
تم ان اشخاص میں سب سے پہلے ہوگے جو قیامت کے دن حوضِ کوثر پر مجھ سے ملاقات کرو گے،
اور میرے بعد بہت سی ناگوار اور تکلیف دہ باتیں تمہیں پیش آئیں گی۔
تو تم پر لازم ہے کہ دل تنگ نہ کرنا اور صبر کرنا۔
اور جب تم دیکھو کہ لوگ دنیا کو پسند کر رہے ہیں،
تو تم آخرت کو اختیار کرنا۔”
یہ عبارت لفظ بہ لفظ اہلِ سنت کی اپنی مستند کتب میں موجود ہے۔
مدارج نبوت عبدالحق محدث دہلوی
شیعہ علماء نے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امام علی (علیہ السلام) ابتدائی طور پر ہرگز خاموش نہیں رہے، بلکہ انہوں نے شدید جسمانی دفاع کیا، لیکن بعد میں پیغمبر اکرم (ص) کی وصیت اور خدائی حکم کی وجہ سے صبر کا دامن تھام لیا۔
۱. ابتدائی اور شدید دفاع
ذرائع کی روشنی میں، جب حضرت زہرا (علیہا السلام) کے گھر پر حملہ ہوا تو امام علی (علیہ السلام) نے فوراً اور شدید رد عمل دکھایا:
جب حملہ آور گھر میں داخل ہوئے، تو مولا علی (علیہ السلام) عمر بن خطاب کے سامنے آئے، اور انہیں زمین پر پٹخ دیا۔
آپ (علیہ السلام) نے عمر کے چہرے اور ناک پر گھونسے مارے۔
سلیم بن قیس ہلالی کی روایت اس دفاع کی تفصیلات فراہم کرتی ہے: جب عمر نے دروازے کو آگ لگائی، اندر داخل ہوا، اور پھر تلوار کی نیام سے حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کے پہلو میں ماری اور بازو پر تازیانہ مارا۔
یہ دیکھ کر، امام علی (علیہ السلام) فوراً اٹھے، عمر کی گردن کو پکڑ کر زور سے کھینچا اور زمین پر دے مارا۔ آپ نے اس کی ناک اور گردن پر گھونسے مارے، اور آپ (علیہ السلام) اسے قتل کرنا چاہتے تھے۔
اہل عامہ کے بزرگ عالم، آلوسی بغدادی کی روایت بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ عمر نے فاطمہ (علیہا السلام) کے پہلو پر نیام سے تلوار ماری اور تازیانہ مارا، جس کے بعد علی (علیہ السلام) نے عمر کی گردن پکڑ کر اسے زور سے کھینچا، زمین پر پٹخا، اور اس کی ناک و گردن پر گھونسے مارے۔
۲. صبر اور تقدیر الہٰی کے سامنے تسلیم
اگرچہ امام علی (علیہ السلام) غلبہ پا چکے تھے اور عمر کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت یاد آ گئی۔ اسی وصیت کی وجہ سے انہوں نے جھگڑے کو جاری رکھنے سے گریز کیا اور صبر کا حکم مانا۔
وصیت اور عہد:
امام علی (علیہ السلام) نے عمر کو یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ “اگر میں صبر سے کام نہ لیتا، اور خدا نے مجھے صبر کا حکم نہ دیا ہوتا تو کسی کو میرے گھر میں داخل ہونے کی جرأت نہ ہوتی”۔
آپ (علیہ السلام) نے قسم کھائی: “اگر تقدیر الٰہی اور وہ عہد نہ ہوتا جو نبی نے مجھ سے لیا تھا، تو تمھیں جرأت نہ ہوتی میرے گھر میں داخل ہونے کی”۔
امیر المومنین (علیہ السلام) کی زندگی خدا کے احکام کے تابع تھی، اور ان مصیبتوں کے مقابلہ میں انہیں خدا اور اس کے رسول کی طرف سے صبر کا حکم دیا گیا تھا۔ اسی حکم کی بنا پر آپ نے تلوار کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔
رسول اللہ (ص) کا آخری حکم:
سید رضیالدین موسوی اپنی کتاب خصائص الائمہ میں رسول اللہ (ص) کی وہ وصیت نقل کرتے ہیں جو انہوں نے ہوش میں آنے کے بعد علی (علیہ السلام) کو فرمائی:
رسول اللہ (ص) نے فرمایا: “یہ لوگ مجھے چھوڑ کر اپنی دنیا میں مصروف ہو جائیں گے… میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ یہ گروہ جو کچھ بھی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ کرے گا اس پر صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھ سے آکر ملو”۔
۳. حضرت فاطمہ (س) کا خود دفاع
ایک اور روایت یہ بھی بیان کرتی ہے کہ جب امام علی (علیہ السلام) کو قنفذ ملعون اور اس کے ساتھی (جو تعداد میں زیادہ تھے) پکڑ کر لے جا رہے تھے:
حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) دروازے پر ان لوگوں کے درمیان رکاوٹ بنی، جس پر قنفذ ملعون نے ان کو تازیانہ مارا۔
اس ظلم کی وجہ سے حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) بیہوش ہو گئیں۔
ہم نے اہلِ سنت روایات سے ثابت کر دیا ہے کہ رسولِ اللہ ﷺ نے خود امام علیؑ کو صبر کا حکم دیا تھا، اور شیعہ مصادر سے بھی آپ کے اعتراض کا مکمل جواب پیش کر دیا ہے۔ اب چند سوالات ہماری طرف سے بھی بنتے ہیں اور ان کے جواب ہمیں آپ ہی سے درکار ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی اپنی بیٹی حضرت زینبؓ کو قریش نے حملے میں زخمی کر کے شہید کیا،
اونٹ سے گرایا، حمل ساقط ہوا، خون بہا
تو نبی ﷺ نے بدلہ کیوں نہیں لیا؟
نبی ﷺ کے پاس فوج بھی تھی، اسلحہ بھی تھا، اصحاب بھی تھے،طاقت بھی تھی قاتل بھی معلوم تھے،
رسول اللہ کا بدلہ دکھائیں؟؟؟
اسی طرح عثمان کی بیوی نائلہ پر حملہ ہوا، اس کے ہاتھ کٹے، گھر پر ہجوم چڑھ آیا، عثمان گھر میں موجود تھے مگر نہ تلوار چلائی، نہ بدلہ لیا، نہ دفاع کیا۔
کیوں؟
جواب ھے تو دو
ہم نے آپ کے اپنے گھر کی روایات سے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود امام علیؑ کو حکم دیا تھا کہ میرے بعد جو تکلیفیں تمہیں پہنچیں گی ان پر صبر کرنا۔ اسی طرح اہلِ سنت کی اپنی کتابیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ امت امام علیؑ کے ساتھ بے وفائی کرے گی اور انہیں ناپسندیدہ اور سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رسول اللہ کی بیٹی جناب زینب پر حملے پر رسول اللہ کا ایکشن اور جناب عثمان کی بیوی نائلہ پر جب تشدد کیا جا رہا تھا اس میں جناب عثمان کی مزاحمت کب دکھا رہے ہیں؟؟؟؟؟؟
