الدعاء عند قبر أبي بكر ، محمد بن إبراهيم بن أحمد الأردستاني ، مستجاب
امام ذہبی اپنی کتاب میں محمد بن ابراہیم الأردستانیؒ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ جو شخص ان کی قبر پر جا کر دعا کرتا، اس کی حاجت پوری ہوتی۔
یہاں تک کہ اس بات کو نقل کرنے والے نے خود بھی اس کا تجربہ کرنے کا ذکر کیا۔
یہ ذکر بطور تاریخی روایت پیش کیا گیا ہے، جس میں ایک صالح شخصیت کے مزار سے متعلق عوامی و تجربی اعتقاد بیان ہوا ہے۔
قال بشيرويه: كان ثقةً، يحسن هذا الشأن، سمعت عدة يقولون: ما من رجل له حاجة من أمر الدنيا والآخرة يزور قبره ويدعو إلا استجاب الله له
قال: وجربت أنا ذلك
📖 ترجمہ
بشیرویہ نے کہا:
وہ ثقہ تھے اور اس فن میں ماہر تھے۔
میں نے کئی لوگوں کو کہتے سنا کہ:
جو شخص دنیا یا آخرت کی کسی حاجت کے لیے ان کی قبر کی زیارت کرے اور دعا کرے اللہ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔
انہوں نے کہا:
میں نے خود بھی اس کا تجربہ کیا ہے۔