اثبات الامامۃ ۔ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
ان کی منقبتوں میں سے اور ان کی امامت پر دلالت کرنے والے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ
رسولِ خدا ﷺ نے امیرالمؤمنینؑ سے فرمایا:
“تم مجھ سے ایسے ہو جیسے ہارون موسیٰ سے تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”
(أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي)
ناصبیوں کی اپنی کتابوں سے مآخذ:
صحیح سنن الترمذی اور ابن ماج
صحیح بخاری و مسلم


اور ان کے محدّثین اس حدیث کی صحت پر متفق ہیں، اور انہوں نے اسے متعدد اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
جہاں تک ناصبیوں کے اس قول کا تعلق ہے کہ ہارون نبی علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے وفات پا گئے تھے،
اور لہٰذا حدیثِ منزلت سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت ثابت نہیں ہوتی
تو ہم کہتے ہیں:
ہاں، ہارون واقعی موسیٰ کی زندگی میں وفات پا گئے تھے،
لیکن جو کچھ بھی ہارون کے لیے ثابت تھا، وہ سب امیرالمؤمنینؑ کے لیے بھی ثابت ہے، سوائے نبوت کے۔ لہٰذا اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہارون کے لیے کیا کیا ثابت تھا؟
قرآنِ عظیم میں یہ آیا ہے کہ نبی موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عزوجل سے دعا کی کہ وہ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنا دے۔
چنانچہ سورۂ طہ میں فرمایا:
“اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر مقرر کر دے،
ہارون جو میرا بھائی ہے،
اس کے ذریعے میری کمر مضبوط فرما،
اور اسے میرے کام میں شریک کر دے۔”
پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو جواب دیا:
“فرمایا: اے موسیٰ! تمہاری دعا قبول کر لی گئی۔”
اور اس کے بعد اللہ نے موسیٰ اور ہارون سے فرمایا:
“تم دونوں میری نشانیوں کے ساتھ جاؤ…”
اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفرقان میں فرمایا:
“اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو وزیر بنایا۔”
پس قرآنِ عظیم سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ نے ہارون کو موسیٰ کا وزیر بنایا،
اور یہ منصب نبوت سے ہٹ کر ایک الگ مقام ہے۔
اسی طرح امیرالمؤمنین علیہ السلام بھی رسولِ خدا ﷺ کے وزیر بنے
اللہ تعالیٰ کے حکم اور تعیین کے ساتھ
کیونکہ وہ نبی ﷺ کے نزدیک ہارون کے مانند تھے
پھر اللہ تعالیٰ نے سورۂ انعام میں فرمایا:
“…اور موسیٰ اور ہارون… اور ہم نے ان دونوں کو چُن لیا تھا،
اور ہم نے انہیں سیدھے راستے کی ہدایت دی…
یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب، حکم اور نبوت عطا کی۔
پھر اگر یہ لوگ اس کا انکار کریں تو ہم نے ایسے لوگوں کو اس کا ذمہ دار بنا دیا ہے
جو اس کے منکر نہیں ہوں گے۔”
اللہ نے ہارون کا ذکر کیا،
انہیں برگزیدہ قرار دیا،
اور لوگوں کو ان کے انکار سے منع کیا۔
اسی طرح امیرالمؤمنین علیہ السلام بھی
نبوت کے سوا
وہی مقام رکھتے ہیں جو ہارون کو دیا گیا تھا۔
پس یوں خلافت اور وزارت دونوں اللہ عزوجل کے مقرر کرنے سے ثابت ہوئیں۔
اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ الصافات میں فرمایا:
“اور بے شک ہم نے موسیٰ اور ہارون پر احسان کیا…
اور ہم نے ان کی مدد کی پس وہی غالب رہے،
اور ہم نے انہیں روشن کتاب عطا کی،
اور ہم نے انہیں سیدھے راستے کی ہدایت دی…
سلام ہو موسیٰ اور ہارون پر!”
پس جب اللہ عزوجل خود ہارون پر سلام بھیجتا ہے،
تو اسی طرح امیرالمؤمنین علیہ السلام پر بھی سلام ہے،
کیوں کہ وہ ہارون کی منزلت پر فائز ہیں۔
پس تشابہ اور منزلت کا اصل پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہارون کو موسیٰ کا وزیر اور خلیفہ بنایا تھا،
نہ کہ وہ وقت جس میں ہارون کی وفات ہوئی۔
لہٰذا اصل نکتہ وقتِ موت نہیں، بلکہ منصبِ وزارت و خلافت ہے جو اللہ نے ہارون کو عطا کیا۔
اسی لیے ان کی اپنی روایات میں ایک دوسری حدیث بھی آئی ہے جس میں رسولِ خدا ﷺ امیرالمؤمنین علیؑ کے لیے صاف الفاظ میں فرماتے ہیں:
“تم میرے بعد ہر مؤمن پر میری طرف سے خلیفہ ہو۔”
ابنِ ابی عاصم جو ان کے بڑے محدثین میں شمار ہوتے ہیں نے روایت کیا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
“تم مجھ سے ایسے ہو جیسے ہارون موسیٰ سے تھا،
سوائے اس کے کہ تم نبی نہیں ہو۔
میرے لیے یہ مناسب نہیں کہ میں کہیں جاؤں مگر تم میرے بعد ہر مؤمن پر میری طرف سے خلیفہ ہو۔”
اور البانی نے کہا: اس کی سند حسن ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
اور یہ کہنا کہ حدیثِ منزلت صرف غزوۂ تبوک کے موقع پر صادر ہوئی تھی اور اسی واقعے تک محدود ہے باطل ہے۔
کیونکہ یہ کلام رسولِ خدا ﷺ کی طرف سے صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ صادر ہوا ہے،
اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس حدیث کو متعدد صحابہ نے کبھی مختلف الفاظ کے ساتھ بھی روایت کیا ہے۔
پھر یہ کلام کسی ایک موقع یا ایک واقعے کے ساتھ خاص نہیں،
کیونکہ رسولِ خدا ﷺ نے امیرالمؤمنینؑ کو ہارون کے ساتھ تشبیہ دی
اور فرمایا کہ علیؑ ہارون کی منزلت پر ہیں، سوائے نبوت کے۔
: ١. یہ ثابت ہوا کہ رسولِ خدا ﷺ نے اپنی امت کو کبھی بھیeven تھوڑی سی مدت کے لیے بھیبے راہنما نہیں چھوڑا، بلکہ ہمیشہ ان کے لیے ایک خلیفہ مقرر فرمایا۔
تو پھر یہ لوگ کیسے دعویٰ کرتے ہیں کہ رسول ﷺ وفات پا گئے اور امت کے لیے کوئی خلیفہ مقرر نہیں کیا؟
٢. اگر امت کے معاملات واقعی “شوریٰ” سے چلنے تھے،
تو کیا رسول ﷺ نے غزوات کے دوران امت کو شوریٰ کے حوالے چھوڑا تھا؟
کیا کوئی حدیث موجود ہے جو اس کی گواہی دے؟
قطعاً نہیں۔
بلکہ ہر غزوہ کے موقع پر رسول ﷺ خود ایک خلیفہ مقرر کرتے تھے تاکہ وہ امورِ امت سنبھالے۔
٣. رسول ﷺ ہر سفر اور ہر غزوہ مختصر عرصےکے لیے بھی امت پر خلیفہ مقرر فرماتے تھے۔
تو پھر اپنی وفات کے بعد کے سب سے بڑے اور حساس معاملے میں
انہوں نے امت کو شوریٰ پر کیوں چھوڑ دیا ہوتا؟
کیوں خلیفہ چننے کا اختیار امت کو دیتے؟
یہ رسول ﷺ کی اپنی سنت کے خلاف ہے۔
٤. رسول ﷺ غزوات پر روانہ ہونے سے پہلے ہی واضح طور پر خلیفہ مقرر کر دیتے تھے۔
تو پھر ناصبیوں کے دعوے کے مطابق معاذ اللہ
رسول ﷺ نے اپنی وفات کے بعد کے معاملے میں اپنی سنت کیوں چھوڑ دی
اور امت کے لیے رہنمائی کیوں نہ فرمائی؟
اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے بڑے بڑے ائمہ اس حدیثِ نبوی ﷺ کی تفسیر سے بچتے اور کنارہ کشی کرتے تھے۔
ابو بکر الخلّال نے السنّة میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے:
کسی نے احمد بن حنبل سے نبی ﷺ کے اس قول کے بارے میں پوچھا:
{أنت مني بمنزلة هارون من موسى}
کہ اس کی تفسیر کیا ہے؟
تو اس نے جواب دیا:
“چپ رہو! اس کے بارے میں سوال مت کرو
اس حدیث کو ویسا ہی رہنے دو جیسے یہ وارد ہوئی ہے!”
ابنِ عبدالبر جو عمریہ کے بڑے علماء میں شمار ہوتے ہیں نے اعتراف کیا ہے کہ حدیثِ منزلت سب سے زیادہ ثابت شدہ اور صحیح ترین آثار میں سے ہے۔
اور اسے بہت زیادہ صحابہ نے روایت کیا ہے، جن میں شامل ہیں:
١. سعد بن ابی وقاص
٢. عبداللہ بن عباس
٣. ابو سعید خدری
٤. امّ سلمہ
٥. اسماء بنت عمیس
٦. جابر بن عبداللہ
اور دیگر بہت سے۔
اور ہارون کے جو مقامات اور مناصب موسیٰ علیہما السلام کی امت میں تھے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“ہاورن نے ان سے کہا… پس میری پیروی کرو اور میرے حکم کی اطاعت کرو۔”
(فقال لهم هارون … فاتبعوني وأطيعوا أمري)
لیکن بنی اسرائیل نے ان کے حکم کی نافرمانی کی اور اطاعت نہ کی۔
اسی طرح امیرالمؤمنین علیہ السلام کی پیروی اور ان کی اطاعت بھی رسولِ خدا ﷺ کے بعد اس امت پر واجب ہے۔
اسی لیے دونوں فریقوں کی کتابوں میں یہ بات آئی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی اطاعت، رسولِ خدا ﷺ کی اطاعت کے برابر ہے۔
ناصبیوں کی اپنی کتابوں میں سے:
رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
“جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی،
اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ کی نافرمانی کی،
اور جس نے علی کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی،
اور جس نے علی کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی۔”
اسے حاکم نے صحیح قرار دیا اور ذھبی نے التلخیص میں اس کی موافقت کی۔
اور اسی طرح کی روایت کتبِ امامیہ میں بھی موجود ہے:
صدوقؒ نے معانی الأخبار میں ایک طویل حدیث میں روایت کیا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
“اے لوگو! جس نے علی کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی،
اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ عزوجل کی نافرمانی کی۔
اور جس نے علی کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی،
اور جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔”
اور یہ امر ان امور میں سے ہے جو عصمت کے لازم ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
اور ہارون علیہ السلام کے منازل میں سے یہ بھی ہے کہ وہ سچے وعدے والے اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ تھے:
“اور ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون نبی عطا کیا۔
اور کتاب میں اسماعیل کا ذکر کرو؛ بے شک وہ وعدہ کے سچے تھے اور رسول تھے…
اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے۔”
(ووهبنا له من رحمتنا أخاه هارون نبیا … واذكر في الكتاب إسماعيل إنه كان صادق الوعد … وكان عند ربه مرضيا)
یہ تمام مقامات سوائے نبوت کے
امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام میں رسولِ خدا ﷺ کے نصّ سے ثابت ہیں۔
اسی لیے دونوں فریقوں کی کتابوں میں آیا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام “صدّیقِ اکبر” ہیں۔
ابنِ ماجہ نے اور ان کے متعدد علماء نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے روایت کیا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:
“میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کے رسول ﷺ کا بھائی ہوں،
اور میں صدیقِ اکبر ہوں؛
میرے بعد جو یہ دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔
میں نے لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھی ہے۔”
اور امامیہ کی کتابوں میں:
صدوقؒ نے معاني الأخبار میں روایت کیا ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نےجب وہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے فرمایا:
“…وہ اس امت کا فاروق ہے جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرتا ہے،
وہ مؤمنین کا سردار ہے،
اور وہی صدیقِ اکبر ہے،
اور وہ وہ دروازہ ہے جس سے (علم و ہدایت) عطا کی گئی،
اور وہ میرے بعد میرا خلیفہ ہے۔”
اور موسیٰ علیہما السلام کی قوم میں ہارون کے جو مقامات تھے، ان میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کرنے سے موسیٰ کے خلیفہ تھے، جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: میری قوم میں میری خلافت کرنا۔”
(وقال موسى لأخيه هارون اخلفني في قومي)
پس اصل نکتہ منزلت کا یہ ہے کہ ہارون، اللہ تعالیٰ کے حکم سے موسیٰ کے خلیفہ بنائے گئے تھے
نہ یہ کہ ان کی وفات کس وقت ہوئی۔
اور چونکہ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف رسول تھے،
جبکہ رسول اللہ ﷺ تمام جہانوں کے لیے رسول تھے،
اس لیے رسولِ خدا ﷺ نے واضح طور پر فرمایا کہ
امیرالمؤمنین علیہ السلام میرے بعد ہر مومن پر میرے خلیفہ ہیں
صرف میری قوم پر نہیں۔
اور جیسا کہ پہلے ناصبیوں کی اپنی کتابوں سے صحیح سند کے ساتھ ذکر ہوا،
رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
“تم میرے بعد ہر مومن پر میری طرف سے خلیفہ ہو۔”
اسی طرح شیعہ احادیث میں بھی آیا ہے:
رسولِ خدا ﷺ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے فرمایا:
“اے علی! میں حکمت کا شہر ہوں اور تم اس کے دروازے ہو…
اور تم میری امت کے امام ہو،
اور میرے بعد اس پر میرے خلیفہ ہو۔
وہ خوش بخت ہے جو تمہاری اطاعت کرے،
اور وہ بدبخت ہے جو تمہاری نافرمانی کرے…
تمہاری مثال اور تمہارے بعد تمہاری اولاد میں آنے والے ائمہ کی مثال
نوح کی کشتی جیسی ہے۔”
محمد بن عمر الحضْرَمي جو ان کے بڑے علماء میں شمار ہوتے ہیں اعتراف کرتا ہے کہ حدیثِ غدیر اور حدیثِ منزلت کی وجہ سے بہت سے عمریہ (اہلِ سنت) اسلامِ حقیقی کی طرف آئے، تشیع اختیار کیا، اور ناصبیت و کفر کو چھوڑ دیا۔
وہ کہتا ہے:
“ہمارے علاقوں میں ایک بڑی فتنہ انگیزی ظاہر ہوئی،
جو اسماعیلیہ کے ایک سردار کی طرف سے تھی۔
وہ اہلِ سُنّت کو اپنے مذہب میں داخل ہونے کی دعوت دیتا تھا،
اور دلیل کے طور پر حدیث ‘من كنت مولاه’
اور حدیث ‘أنت مني بمنزلة هارون’ پیش کرتا تھا،
اور اس سے بہت سے لوگ دھوکے میں آ گئے…”
تمام