ابن کثیرکے شبھات۔۔۔فدک قسط 3
«قال الحافظ أبو بکر البزار حدثنا عباد بن یعقوب حدثنا أبو یحیی التیمی حدثنا فضیل بن مرزوق عن عطیة عن أبی سعید الخدری…» قال لما نزلت (وآت ذا القربی حقه).
«دعا رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) فاطمة فأعطاها فدک»
۔۔۔عطیہ نے ابو سعید خذری سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بلاکر فدک انہیں عطاﺀ فرمایا۔
سند کی تحقیق
ابوبکر بزار۔۔ سب کے نذدیک قابل قبول شخصیت ہے ۔
«عباد ابن یعقوب الرَّوَاجِنِيُّ»
:
«1459 – عباد بن يَعْقُوب الروَاجِنِي الْكُوفِي حدث عَن عباد بن الْعَوام رَوَى عَنهُ البُخَارِيّ فِي التَّوْحِيد قَالَ البُخَارِيّ مَاتَ فِي شَوَّال سنة خسمين وَمِائَتَيْنِ»
«رجال صحيح البخاري (2/ 863)
اھل سنت کے بڑےمحدث امام بخاری نے اس سے روایت لی ہیں اور ان کا شمار رجال بخاری میں کیا گیا ہے
«قال بشار: عباد لم يكن ضعيفا، فقد روى له البخاري فِي الصحيح مقرونا بغيره، وروى عنه التِّرْمِذِيّ وابن ماجة وإمام الأئمة ابن خزيمة وغيرهم، ووثقه أبو حاتم، وابن خزيمة،»
«تهذيب الكمال في أسماء الرجال» (3/ 113):
بشار نے کہا یہ ضعیف نہیں بخاری ئے اس سے روایت بیان کی صحیح میں اور باقی بھی محدثین نے بھی اس سے روایت لے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ابو حاتم نے اس کی توثیق بھی بیان کی ہیں اور صالح الحدیث بھی ہے

أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ الکوفی
« قَالَ أَحْمَدُ العِجْلِيُّ: كُوْفِيٌّ، ثِقَةٌ، رَجُلٌ صَالِحٌ، مُتَقَشِّفٌ »
«قَالَ ابْنُ سَعْدٍ: هُوَ مِنْ مَوَالِي تَيْمِ اللهِ، وَكَانَ رَجُلاً صَالِحاً، ثِقَةً»
الكتاب : سير أعلام النبلاء- المؤلف : شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان بن قَايْماز الذهبي (المتوفى
دوسرا راوی ابو یحیی التمیمی ثقۃ ہے

فُضَيل بن مرزوق
وَثَّقَهُ: سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ، وَيَحْيَى بنُ مَعِيْنٍ.وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِهِ.
سفیان بن عینہ توثیق کی ہے اور یحیی بن معین نے بھی اب عدی کہتا ہے لا باس اس کو صدوق کہا گیا ہے

« عَطِيَّةُ بْنُ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ الْعَوْفِيُّ الکوفی »
اہل سنت کے علماﺀ کا عطیہ عوفی کو ثقہ قرار دینا
ملا على قارى
اس نے عطیہ کے بارے میں کہا ہے کہ:
عطیة بن سعد العوفی، و هو من أجلاء التابعین .
عطیہ بن سعد عوفی، وہ بزرگ تابعین میں سے ہے۔
القاری ، ملا علی (وفات 1104) ؛شرح مسند أبی حنیفة، ص 292 ،
مزید دیکھے اھل سنت کے بڑے عالم امام و محدث
الإمام والمحدث أبو عبد الرحمن محمد بن الحاج نوح بن نجاتي بن آدم الأشقودري الألباني الأرنؤوطيّ المعروف باسم محمد ناصر الدين الألباني (1914 – 1999)
اس کی روایت کو صحیح کہا ہے

اور جناب ابو سعید خدری تو اصحاب میں سے ہیں
یہاں تک اس کی سندی تحقیق کو مختصرا آپ کے سامنے رکھا ہیں