ابن تیمیہ کا عقیدہ ہے کہ مردہ بولتا ہے
کتاب کا نام:
مجموع فتاوى شيخ الإسلام أحمد بن تيمية
مصنف:
شيخ الإسلام أحمد بن عبد الحليم بن تيمية الحراني
(ابن تیمیہ)
جلد:
المجلد الرابع والعشرون
(جلد 24)
سوال:
کیا مردہ اپنی قبر میں بات کرتا ہے یا نہیں؟
جواب:
ہاں، وہ بات کرتا ہے۔ اور کبھی کبھی وہ سب کچھ سن بھی لیتا ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
“وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتے ہیں۔”
اور صحیح میں یہ بھی ثابت ہے کہ:
مردے سے قبر میں سوال کیا جاتا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے: تیرا رب کون ہے؟
تیرا دین کیا ہے؟
تیرا نبی کون ہے؟
تو مومن کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے،
میرا دین اسلام ہے،
اور محمد میرے نبی ہیں۔
پھر اس سے کہا جاتا ہے: اس شخص کے بارے میں کیا کہتا ہے جو تم میں مبعوث ہوا تھا؟
تو مومن کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
وہ ہمارے پاس واضح نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے،
ہم نے ان کی تصدیق کی، ان پر ایمان لائے، اور ان کی پیروی کی۔
یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی تفسیر ہے:
“اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں قولِ ثابت پر قائم رکھتا ہے۔”
اور صحیح طور پر نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ یہ آیت عذابِ قبر کے بارے میں نازل ہوئی۔
اسی طرح منافق بھی بات کرتا ہے، تو وہ کہتا ہے: “آہ آہ، میں نہیں جانتا۔ میں نے لوگوں کو کچھ کہتے سنا تو میں نے بھی وہی کہہ دیا۔”
